ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ہندوستان میں 3 سال میں سائبر کرائم کے معاملے میں 300فیصد کا اضافہ :سروے 

ہندوستان میں 3 سال میں سائبر کرائم کے معاملے میں 300فیصد کا اضافہ :سروے 

Thu, 25 Aug 2016 20:42:50    S.O. News Service

 

نئی دہلی، 25؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آئی ٹی قانون کے تحت ملک میں درج سائبر جرائم کے مقدمات کی تعداد میں 2011سے 2014کے درمیان تقریبا 300فیصد کا اضافہ ہو گیا ۔ایک سروے میں یہ اطلاع دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سائبر حملے بڑی شدت اورتیزی کے ساتھ ہو رہے ہیں۔سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماضی میں اس طرح کے زیادہ تر حملے امریکہ، ترکی، چین، برازیل، پاکستان، الجزائر، یورپ اور یو اے ای جیسے ممالک میں سامنے آئے اور انٹرنیٹ ، اسمارٹ فون کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہونے کے ساتھ ہندوستان سائبر مجرموں کے اہم نشانے پر آنے لگا۔ایسوچیم-پی ڈبلیوسی کے مشترکہ سروے کے مطابق،ہر گزرتے سال کے ساتھ سائبر حملوں کی شدت، تیزی اور ان کے اثرات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہندوستان میں 2011سے 2014تک آئی ٹی ایکٹ 2000کے تحت درج سائبر جرائم کے مقدمات کی تعداد میں تقریبا 300فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے ۔سروے میں کہا گیا ہے کہ سائبر حملہ آور جوہری پلانٹ ، ریلوے، ٹرانسپورٹ کے ذرائع یا اسپتا لوں جیسے اہم نظام پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ان میں بجلی غائب ہو جانے، آبی آلودگی یا سیلاب، ٹرانسپورٹ کے نظام میں رکاوٹ اور ہلاکتوں جیسے مہلک اثرات شامل ہیں۔جائزے کے مطابق صرف امریکہ میں اس کے اہم بنیادی ڈھانچے پر سائبر حملوں کے معاملات میں 2012سے 2015کے درمیان تقریبا 50فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔’پروٹیکٹنگ انٹرکنیکٹڈ سسٹمز ان دی سائبر ایرا‘کے عنوان سے شائع تحقیقی مضمون کے مطابق انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے بھی اپنے سامنے آئے مقدمات کی تعداد میں اضافہ کی بات قبول کی ہے اور 2015میں تقریبا 50000سیکورٹی سے متعلق معاملے درج کئے گئے ہیں ۔اس میں کہا گیا ہے کہ ابھرتے ہوئے سائبر خطرات کے تئیں اس نظام اور طریقہ کار کی لچک کو بہتر بنانے کے لیے سائبر سیکورٹی خفیہ معلومات اور اطلاعات کو مسلسل اور باقاعدگی طریقہ سے شراکت داری ضروری ہے۔


Share: